Mazar-e-Quaid
مزارِ قائد، بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی آخری آرام گاہ ہے۔ سفید ماربل سے بنے ہوئے اس مقبرے کو کراچی کی پہچان اور علامت کی حیثیت کے ساتھ پاکستان کا قومی مقبرہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ مزارِ قائد کے گرد تقریباً 60 ایکڑ پر پھیلا ہوا خوب صورت اور سرسبز باغ ہے جہاں فوارے اُس کی خوب صورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔ مقبرے میں ایک شان دار فانوس نصب ہے جسے پاکستان کے دوست پڑوسی ملک چین کے عوام کی طرف سے تحفے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح کی 11 ستمبر 1948ء میں رحلت کے چند سال بعد اُن کا مقبرہ بنانے کے منصوبے پر کام شروع ہوا۔ ممبئی سے تعلق رکھنے والے ماہرِ تعمیرات یحییٰ مرچنٹ کا نمونہ منتخب ہوا جس کی تعمیر جون 1970ء کے قریب موجودہ شکل میں مکمل ہوئی۔ درختوں کے جھرمٹ میں 43 میٹر بلند مقبرے کی عمارت دور ہی سے نظر آجاتی ہے۔ رات کے وقت مقبرے پر پڑتی روشنی قابلِ دید نظارہ پیش کرتی ہے۔

مزارِ قائد کے احاطے میں تحریکِ پاکستان کے چند دیگر اہم راہ نما بھی مدفون ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں:
لیاقت علی خان (پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم)
نور الامین (پاکستان کے آٹھویں وزیرِ اعظم)
سردار عبد الرب نشتر (قیامِ پاکستان کے بعد پنجاب کے دوسرے گورنر)
فاطمہ جناح (قائدِ اعظم کی ہمشیرہ)
کراچی کے دورے پر آنے والی ہر سیاسی و عسکری شخصیت کی مزار پر حاضری اہم تصور کی جاتی ہے۔ مزارِ قائد پر خصوصی مہمانوں کے تاثرات درج کرنے کے لیے ایک رجسٹر بھی موجود ہے۔ پاکستان کے قومی دنوں خاص کر یومِ پاکستان 23 مارچ، یومِ آزادی 14 اگست، اور قائدِ اعظم کی رحلت 11 ستمبر کے دن مزار پر خصوصی تقریبات ہوتی ہیں۔ اُن دنوں مزار کی حاضری کا الگ ہی لطف ہوتا ہے۔
View Larger Map













[...] آرٹس کونسل کراچی باغِ حیوانات (چڑیا گھر) گو عیش پارک مزارِ قائد موہٹہ پیلس نیشنل میوزیم ہاکس بے ہِل پارک (No Ratings Yet) [...]
Leave your response!